سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب فِي الْخَرْصِ
باب: درخت پر پھل کا اندازہ لگانا۔
حدیث نمبر: 3413
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ، يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (خیبر) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3413]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب کھجوریں پکنے کے قریب آتیں تو ان کے کھائے جانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرماتے، وہ ان کے پھلوں کی مقدار کا اندازہ لگاتے۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ یا تو اس اندازہ کردہ مقدار سے اپنا حصہ لے لیں یا مسلمانوں کو دے دیں، اور یہ سب اس لیے ہوتا کہ پھل کھائے جانے سے پہلے اس کی زکوٰۃ (عشر) کا حساب لگایا جا سکے اور تقسیم کیا جا سکے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1606)، (تحفة الأشراف: 16531، 16752) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (1606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
ضعيف
انظر الحديث السابق (1606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ:" أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3414]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”جب اللہ عز وجل نے خیبر اپنے رسول کو بطور فے عنایت فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس کی زمینوں پر ویسے ہی رہنے دیا جیسے کہ وہ پہلے تھے اور ان کے اور اپنے درمیان متعین حصے طے کر لیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے ان پر پھلوں کا اندازہ لگایا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن في ھذا اللفظ والحديث الآتي (الأصل : 3415) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن في ھذا اللفظ والحديث الآتي (الأصل : 3415) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ، أَخَذُوا الثَّمَرَ، وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق (کھجور) کا اندازہ لگایا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا (کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق (کٹائی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3415]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق کا اندازہ لگایا تھا اور پھر جب یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل لے لیا اور ان کے ذمے (مسلمانوں کا) بیس ہزار وسق آ گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2869) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1806)
مشكوة المصابيح (1806)