صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ۔
حدیث نمبر: Q1038
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شُكْرَكُمْ.
یعنی تمہارا شکر یہی ہے کہ تم اللہ کو جھٹلاتے ہو (یعنی تمہارے حصہ میں جھٹلانے کے سوا اور کچھ آیا ہی نہیں) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہمارے رزق سے مراد شکر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: Q1038]
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
ہم سے اسماعیل بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہو چکی تھی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار فرماتا ہے آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی۔ ایک مومن ہے ایک کافر۔ جس نے کہا اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا، تاروں پر ایمان لایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1038]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حدیبیہ کے مقام پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ) کچھ میرے بندے مجھ پر ایمان لانے والے بنے اور کچھ نے میرے ساتھ کفر کیا، جنہوں نے کہا کہ ہم پر صرف اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مینہ برسا ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہیں اور جنہوں نے کہا کہ فلاں ستارے کے باعث بارش ہوئی ہے وہ میرے ساتھ کفر کرنے والے اور ستاروں پر ایمان لانے والے ٹھہرے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة