سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ
باب: عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنِ الْأَنْصَارِ، أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3581]
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جس کسی کو ہماری طرف سے کوئی عملداری سونپی گئی ہو، پھر اس نے اس کے محاصل میں سے کوئی سوئی یا اس سے بھی کم یا زیادہ کو چھپا لیا، تو وہ طوق ہے جسے پہنے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہو گا۔“ تو کالے سے رنگ کا، ایک انصاری جوان کھڑا ہو گیا، گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ یوں یوں فرما رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) میں یہی کہتا ہوں۔ جس کو ہم نے کوئی کام سونپا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے محاصل، تھوڑے ہوں یا زیادہ، سب لے آئے۔ اور پھر اس میں سے جو اسے (حق الخدمت) دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے اس سے رک جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 7 (1833)، (تحفة الأشراف: 9880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1833)
مشكوة المصابيح (3752)
مشكوة المصابيح (3752)