سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فِي طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ
باب: جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھانا کھلائیں تو ان کے یہاں کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3754
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لَا يَذْكُرُ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيْضًا، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3754]
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ بازی میں آ کر کھلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جریر کے اکثر شاگرد اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کرتے۔ البتہ ہارون نحوی نے ان کا نام لیا ہے۔ حماد بن زید نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔“ (یعنی ان کی روایت مرسل ہوئی)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6091) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں میں سے ہر ایک یہ چاہے کہ میں دوسرے سے بڑھ جاؤں اور اسے مغلوب کر دوں، ایسے لوگوں کی دعوت کو قبول کرنا منع ہے، کیوں کہ یہ اللہ کی رضا کے واسطے نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3225)
أخرجه البيھقي (7/274) وصححه الحاكم (4/128، 129) ورواه ضياء المقدسي في المختارة (11/384 ح 401) وللحديث شواھد
مشكوة المصابيح (3225)
أخرجه البيھقي (7/274) وصححه الحاكم (4/128، 129) ورواه ضياء المقدسي في المختارة (11/384 ح 401) وللحديث شواھد