سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3782
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3782]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جو اس نے تیار کیا تھا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے میں گیا تھا۔ پس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جَو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے اطراف سے کدو کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے، چنانچہ اس دن کے بعد میں کدو کو بہت پسند کرنے لگا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، الأطعمة 4 (5379)، 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة 21 (2041)، سنن الترمذی/الأطعمة 42 (1850)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 26 (3304)، (تحفة الأشراف: 198)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 21 (51)، مسند احمد (3/150)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2094) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5436) صحيح مسلم (2041)