🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ
باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3926
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3926]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب پر جب تک اس کی کتابت (طے شدہ رقم) کا ایک درہم بھی باقی ہو وہ غلام ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8707)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 35 (1260)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2519)، مسند احمد (2/178، 206، 209) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالُوا: هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے (ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3927]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر کتابت کا عہد کیا ہو، اور سب ادا کر دیا ہو صرف دس اوقیے باقی رہ گئے ہوں تو وہ غلام ہے، اور جس غلام نے سو دینار کتابت کی ہو اور سب ادا کر چکا ہو صرف دس دینار باقی ہوں تو وہ غلام ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: (عمرو بن شعیب کا شاگرد) عباس الجریری، یہ وہم ہے بلکہ یہ کوئی اور شیخ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8725)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (5026)، مسند احمد (2/184) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3401)
أخرجه النسائي في الكبريٰ (5026 وسنده حسن) والحديث السابق (2926) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3928]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میں جب کسی کا غلام مکاتب ہو جائے اور اس کے پاس اس قدر مال ہو جو وہ ادا کر سکتا ہو تو تمہیں چاہیے کہ اس سے پردہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ البیوع 35 (1261)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2520)، (تحفة الأشراف: 18221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 308، 311) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: 1769)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3400)
أخرجه الترمذي (1261 وسنده حسن) وابن ماجه (2520 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة حسن الحديث علي الراجح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں