سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب فِي التَّقَنُّعِ
باب: سر ڈھانپنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ عُرْوَةُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:"بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4083]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (مکہ کے دنوں کا ذکر ہے کہ) عین دوپہر کے وقت ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”یہ سر اور چہرہ ڈھانپے (ڈھاٹا باندھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور ایسے وقت میں آ رہے ہیں جو آپ کا معمول نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اندر آنے کی اجازت چاہی، آپ کو اجازت دی گئی تو آپ اندر آ گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 16 (5807)، (تحفة الأشراف: 16653، 16663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (5807)
رواه البخاري (5807)