صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ ازْدِحَامِ النَّاسِ إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ السَّجْدَةَ:
باب: امام جب سجدہ کی آیت پڑھے اور لوگ ہجوم کریں تو بہرحال سجدہ کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، فَنَزْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ".
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور نافع کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ کی تلاوت اگر ہماری موجودگی میں کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے تھے۔ اس وقت اتنا اژدھام ہو جاتا کہ سجدہ کے لیے پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی جس پر سجدہ کرنے والا سجدہ کر سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب سُجُودِ الْقُرْآنِ/حدیث: 1076]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ تلاوت فرماتے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، اس وقت اتنا رش ہو جاتا کہ ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہ پاتا کہ وہاں سجدہ کر سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب سُجُودِ الْقُرْآنِ/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة