سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ
باب: حد میں ایسی بات کی تلقین کا بیان جس سے حد جاتی رہے۔
حدیث نمبر: 4380
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ، قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا،، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے“ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو“ اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4380]
سیدنا ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ازخود اعتراف کیا، مگر مال اس کے پاس سے نہیں ملا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ تو نے چوری کی ہے۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں (یعنی کی ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔ پھر پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: «اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ» ”اللہ سے معافی مانگو اور توبہ کرو۔“ اس نے کہا: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُمَّ اتُبْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما لے۔“ تین بار فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو عمرو بن عاصم نے بواسطہ ہمام، اسحاق بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: ابوامیہ جو کہ انصاری آدمی تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 3 (4881)، سنن ابن ماجہ/الحدود 29 (2597)، (تحفة الأشراف: 11861)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4881) ابن ماجه (2597)
أبو المنذر لايعرف (ميزان الإعتدال 4 / 577)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
نسائي (4881) ابن ماجه (2597)
أبو المنذر لايعرف (ميزان الإعتدال 4 / 577)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155