🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب الْقِصَاصِ مِنَ السِّنِّ
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4595
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ أُخْتُ أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ ثَنِيَّةَ امْرَأَةٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى بِكِتَابِ اللَّهِ الْقِصَاصَ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا الْيَوْمَ، قَالَ: يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ، فَرَضُوا بِأَرْشٍ أَخَذُوهُ، فَعَجِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قِيلَ لَهُ: كَيْفَ يُقْتَصُّ مِنَ السِّنِّ؟ قَالَ: تُبْرَدُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی بہن ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑ دیا، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ کیا، تو انس بن نضر نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کا دانت تو آج نہیں توڑا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے پھر وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے جسے انہوں نے لے لیا، اس پر اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا: اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ان سے پوچھا گیا تھا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ریتی سے رگڑا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4595]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی بہن «الرُّبَيِّعُ» (را پر پیش، با پر زبر اور ی مشدد کے نیچے زیر) نے ایک عورت کا دانت توڑ دیا تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ فرمایا۔ انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آج اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہے۔ چنانچہ دوسرے لوگ دیت قبول کر لینے پر راضی ہو گئے (اور بدلہ نہیں لیا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تعجب ہوا اور فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ پوری فرما دیتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: اسے رگڑ دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 777)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلح 8 (2703)، تفسیر سورة البقرة 23 (4499)، المائدة 6 (4611)، الدیات 19 (6894)، صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، سنن النسائی/القسامة 12 (4759)، سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (2649)، مسند احمد (3/128، 167، 284) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے غصے میں اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لی تھی کہ میری بہن کا دانت نہیں توڑا جائے گا، چنانچہ اللہ نے ان کے لئے ایسا ہی سامان قانونی طور پر کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2703)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں