🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب فِي اسْتِخْلاَفِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4660
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ:" لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا، قَالَ: فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ".
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو (پھر سے) نماز پڑھائی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4660]
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بہت بڑھ گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہہ دو، وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے۔ میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیجیے۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے اور تکبیر کہی۔ (ادھر) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز آدمی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی، اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا تو وہ آ گئے جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا چکے تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وہی نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے خلافت صدیقی کا صاف اشارہ ملتا ہے کیونکہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کا پیش خیمہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4661
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ عُمَرَ، قَالَ ابْنُ زَمْعَةَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا لَا لَا لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ (یعنی ابوبکر) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غصے میں فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4661]
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے یہ خبر بیان کی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اپنا سر مبارک حجرے سے نکالا اور فرمایا: نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔ ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ناراضی کی کیفیت میں فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 5295) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (6660)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں