🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. باب فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ
باب: میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟ , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4919]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں روزے، نماز اور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا۔ (اور اس کے برعکس) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا (دین کو) مونڈا دینے والی خصلت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/صفة القیامة 56 (2509)، (تحفة الأشراف: 10981)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/444) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2509)
الأعمش مدلس وعنعن ورواه مالك (الموطأ 2/ 904) بسند صحيح عن سعيد بن المسيب من قوله،وھو الصواب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمْ يَكْذِبْ مَنْ نَمَى بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ" , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُسَدَّدٌ: لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا.
ام حمید بن عبدالرحمٰن (ام کلثوم) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4920]
جناب حمید بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ اپنی والدہ (ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کی خاطر بات بنا کر کہی ہو، اس نے جھوٹ نہیں بولا۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت کے الفاظ ہیں: جس نے لوگوں میں صلح کرانے کے لیے بھلی بات کہی یا پہنچائی وہ جھوٹا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلح 2 (2692)، صحیح مسلم/البر والصلة 37 (2605)، سنن الترمذی/البر والصلة 26 (1938)، (تحفة الأشراف: 18353، 20196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/403) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً یوں کہے کہ آپ کو تو فلاں نے سلام کہا ہے یا فلاں آپ سے محبت رکھتا ہے یا فلاں آپ کی تعریف کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2692) صحيح مسلم (2605)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4921
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي، أَنَّ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ،عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ:" مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا أَعُدُّهُ كَاذِبًا: الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ , يَقُولُ الْقَوْلَ وَلَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا".
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4921]
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی کہیں اجازت دی ہو مگر تین مواقع پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: میں ایسے آدمی کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جو لوگوں میں صلح کرانے کی غرض سے کوئی بات بناتا ہو اور اس کا مقصد سوائے صلح اور اصلاح کے کچھ نہ ہو، اور جو شخص لڑائی میں کوئی بات بنائے اور شوہر جو اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے شوہر کے سامنے کوئی بات بنائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18353) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4920)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں