🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

167. باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ
باب: آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5231
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ غَالِبٍ , قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ بِباب الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ جَدِّي , قَالَ:" بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ائْتِهِ , فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ".
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5231]
جناب غالب (غالب بن خطاف بصری) نے بیان کیا کہ ہم جناب حسن بصری رحمہ اللہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد نے آپ کو سلام کہا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أَبِيكَ السَّلَامُ» تم پر اور تمہارے والد پر سلامتی ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2934)، (تحفة الأشراف: 15711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/366) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں کئی مجاہیل ہیں، البانی نے اسے حسن کہا ہے، صحیح ابی داود، 3؍ 482، جبکہ (2934) نمبر کی سابقہ حدیث (جو اس سند سے مفصل ہے) پر ضعف کا حکم لگایا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال المنذري :’’ ھذا الإسنادفيه مجاهيل ‘‘ (عون المعبود 528/4)
وانظرالحديث السابق (2934)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5232
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ,حَدَّثَتْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ , فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5232]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تحقیق جبرائیل علیہ السلام تجھے سلام کہہ رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3217)، وفضائل الصحابة 30 (3768)، والأدب 111 (6201)، الاستئذان 16 (6249)، 19 (6253)، صحیح مسلم/الآداب 7 (2447)، سنن الترمذی/الاستئذان 5 (2693)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3405)، سنن ابن ماجہ/ الآداب 12 (3696)، (تحفة الأشراف: 17727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/146، 150، 208، 224)، سنن الدارمی/الاستئذان 10 (2680) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6253) صحيح مسلم (2447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں