🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

180. باب مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ
باب: ختنہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5271
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْأَشْجَعِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ , أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ , فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْهِكِي , فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ" , قَالَ أبو داود: رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ , قَالَ أبو داود: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ , وَقَدْ رُوِيَ مُرْسَلًا , قَالَ أبو داود: وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ.
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5271]
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جو ختنے کیا کرتی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ختنہ گہرا مت کیا کر، کیونکہ اس میں عورت کے لیے زیادہ لذت اور شوہر کے لیے بھی یہ کیفیت زیادہ پسندیدہ ہوتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بواسطہ عبدالملک، عبیداللہ بن عمرو سے بھی اسی کے ہم معنی اور اس کی سند سے مروی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور محمد بن حسان مجہول ہے اور حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18093) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن حسان مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
محمد بن حسان شيخ لمروان بن معاوية : مجهول،وقيل ھو ابن سعيد المصلوب (تقريب التهذيب: 5810) المصلوب: كذاب وضاع
وللحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي(324/8) وغيره
وأخرج البخاري في الأدب المفرد (1247) بسند حسن : إن بنات أخي عائشة ختن إلخ
وھذا لا يشهد له
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 183

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں