🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 573]
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے غسل جنابت کیا، (پہلے) بائیں ہاتھ سے برتن کو جھکا کر دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا (اور استنجا کیا)، پھر زمین پر ہاتھ رگڑا (اور صاف کر لیا)، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار چہرہٴ مبارک دھویا اور تین بار بازو دھوئے، پھر باقی جسم پر پانی بہا لیا، پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھو لیے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطہارة 98 (245)، سنن الترمذی/الطہارة 76 (103)، سنن النسائی/الطہارة 161 (254)، الغسل 14 (408)، 15 (418، 419)، (تحفة الأشراف: 18064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/230، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (739)، 67 (774) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے، اور اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سارے بدن پر پانی پہنچائے، یا پانی میں ڈوب جائے، کلی کرنی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ضروری ہے، اور جس قدر ممکن ہو بدن کا ملنا بھی ضروری ہے، باقی امور آداب اور سنن سے متعلق ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا كَيْفَ" كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ غُسْلِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُفِيضُ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُدْخِلُهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ"، وَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نَغْسِلُ رُؤْسَنَا خَمْسَ مِرَارٍ مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ.
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 574]
حضرت جمیع بن عمیر تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنی پھوپھی جان اور خالہ جان کے ہمراہ گیا، ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کے موقع پر کیا طریقہ اختیار کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار ہاتھوں پر پانی ڈالتے تھے، اس کے بعد پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالتے، پھر تین بار اپنا سر مبارک دھوتے، پھر اپنے جسم مبارک پر پانی بہاتے۔ اس کے بعد نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ لیکن ہم بال گندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے پانچ بار سر دھوتی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 98 (241)، (تحفةالأشراف: 16053)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 17 (67)، مسند احمد (6/273)، سنن الدارمی/الطہارة 67 (775) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں جمیع بن عمیر رافضی اور واضع حدیث ہے، نیز صدقہ بن سعید کے یہاں عجائب وغرائب ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں