🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مَرَّاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"، قَالَ عَمْرٌو: هَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے  «الله أكبر كبيرا»  تین مرتبہ، «الحمد لله كثيرا»  تین مرتبہ، «سبحان الله بكرة وأصيلا»  تین مرتبہ کہا، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه»  پڑھا اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۱؎۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا «ہمز» اس کا جنون، «نفث»  اس کا شعر ہے، اور «نفخ» اس کا کبر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 807]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو تین بار فرماتے: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» اللہ بڑا ہے، سب سے بڑا، اللہ بڑا ہے، سب سے بڑا۔ پھر تین بار فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» سب تعریف اللہ ہی کی ہے، بہت زیادہ تعریف۔ سب تعریف اللہ ہی کی ہے، بہت زیادہ تعریف۔ پھر تین بار کہتے: «سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» میں صبح شام اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہوں۔ (اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے): «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ» اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، مردود شیطان سے، اس کے (شرارت کے ساتھ) چھونے سے، اس کی پھونک سے اور اس کے تھتکارنے سے۔ حضرت عمرو (بن مرہ رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس کے چھونے سے مراد موتہ کی بیماری ہے، اور اس کا تھتکارنا (خلافِ شریعت) شاعری ہے، اور اس کی پھونک تکبر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 121 (764)، (تحفة الأشراف: 3199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/403، 404، 3/50، 4/80، 81، 83، 85، 6/156) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم عنزی کی صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے، یعنی وہ مجہول ہیں، نیز عاصم کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن آخری ٹکڑا: «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 2/54)
وضاحت: ۱؎: جو شخص متبع سنت ہو اس کو چاہئے کہ کبھی «سبحانك اللهم» پڑھے، کبھی  «اللهم باعد بيني..»  ، کبھی  «إني وجهت» ‏‏‏‏، اور کبھی حدیث میں مذکور یہ دعا اور ہر وہ دعا جو اس موقع پر صحیح اور ثابت ہے، تاکہ ہر ایک سنت کا ثواب ہاتھ آئے، یہ ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے دوسرے لوگ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"، قَالَ: هَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے، «نفث»  سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 808]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَهَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ» اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، مردود شیطان سے، اس کے چھونے سے، اس کی پھونک سے اور اس کے تھتکارنے سے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ: اس کے چھونے سے مراد موتہ کی بیماری ہے، اور اس کا تھتکارنا شاعری ہے اور اس کی پھونک تکبر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9332، ومصباح الزجاجة: 302)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 122 (775)، سنن الترمذی/المواقیت 65 (242)، مسند احمد (1/403) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عطاء بن السائب اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہیں، اور محمد بن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے، نیز ابو عبدالرحمن السلمی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، لیکن طرق و شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 472، و الإرواء: 2/54)۔
وضاحت: ۱؎: طیبی کہتے ہیں کہ اگر یہ تفسیر حدیث میں داخل ہے تو اس کے سوا دوسری تفسیر نہیں ہو سکتی، اور جو راوی نے یہ تفسیر کی ہے تو  «نفث»  سے «سحر» بھی مراد ہو سکتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «ومن شر النفاثات في العقد» سورة الفلق: 4، اور «ہمز» سے شیطان کا وسوسہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جیسے قرآن میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں