🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ: مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ
باب: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْإِمَامُ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ، يَعْنِي: فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 981]
حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے نوجوانوں کو آگے بڑھاتے تھے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ان سے عرض کیا گیا: ”آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کو قدیم الاسلام صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ذمہ دار ہے۔ اگر اچھے طریقے سے نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ہو گا اور مقتدیوں کو بھی ثواب ہو گا، اور اگر اس نے غلطی کی تو وہ گناہ گار ہو گا، مقتدی گناہ گار نہیں ہوں گے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4700، ومصباح الزجاجة: 354) (صحیح)» (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1767)
وضاحت: ۱؎: امام ضامن ہے کا مطلب یہ کہ اگر وہ اچھی طرح سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا اجر و ثواب اس کو اور مقتدیوں دونوں کو ملے گا، اور اگر خراب طریقے سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہو گا، نہ کہ مقتدیوں پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف۔عبدالحميد (بن سليمان) اتفقوا علي تضعيفه ‘‘ وھو: ضعيف
ولبعض الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ".
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
حضرت خرشہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: ”لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ وہ ایک گھڑی کھڑے رہیں گے (ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے) انہیں کوئی امام نہیں ملے گا جو نماز پڑھا سکے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 60 (581)، (تحفة الأشراف: 15898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381) (ضعیف)» (اس کی سند میں عقیلہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ".
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 983]
حضرت ابو علی ہمدانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں سفر پر روانہ ہوئے۔ کشتی میں حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ (سفر کے دوران میں) نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے درخواست کی کہ نماز پڑھا دیں اور ہم نے ان سے عرض کیا: ”آپ اس (امامت) کا زیادہ حق رکھتے ہیں کیوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں“، انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: ”جو شخص لوگوں کا امام بنے اور صحیح طریقے سے نماز پڑھائے تو اسے بھی نماز کا ثواب ملے گا اور ان کو بھی۔ اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی (اور غلطی) کی تو اسے گناہ ہو گا، انہیں نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 59 (580)، (تحفة الأشراف: 9912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/145، 154، 156، 201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں