سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَدَنِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ: بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى، وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا".
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا، خود مکہ گئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی، پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں: «إذا جاءك المنافقون» پڑھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، اور ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں (نماز جمعہ میں) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1118]
حضرت عبیداللہ بن ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مروان نے مدینہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا اور خود مکہ تشریف لے گئے۔ جمعہ کے دن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون کی تلاوت کی۔ حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو چکے تو میں انہیں ملا، کہا: ”آپ نے (آج نماز میں) وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ (نماز میں) پڑھا کرتے تھے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں پڑھتے سنا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (877)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1124)، سنن الترمذی/الصلاة 257 (519)، (تحفة الأشراف: 14104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ، قَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا: هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک (احنف) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1119]
حضرت عبید اللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: ”ہمیں یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن سورہٴ جمعہ کے ساتھ دوسری کون سی سورت پڑھتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1123)، سنن النسائی/الجمعة 39 (1424)، (تحفة الأشراف: 11634)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد (4/270، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1607، 1608) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں: «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1120]
حضرت ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”جمعہ کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12075، (الف) ومصباح الزجاجة: 398) (صحیح)» (دوسری صحیح سند کے ساتھ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے، اس بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1027)۔
وضاحت: ۱؎: دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں سورۃ «ق» پڑھی، اور ایک روایت میں ہے کہ سورۃ «قمر» پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح