سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ
باب: مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر ابتدائے صدمہ کے وقت ہی ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 13 (988)، (تحفة الأشراف: 848)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 31 (1283)، 42 (1302)، الأحکام 11 (7154)، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926)، سنن ابی داود/الجنائز 27 (3124)، سنن النسائی/الجنائز 22 (1870)، مسند احمد (3/130، 143، 217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر ابتدائے صدمہ کے وقت تو صبر کرے اور حصولِ ثواب کی نیت کرے تو میں تیرے لیے جنت سے کم ثواب پسند نہیں کروں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4911، ومصباح الزجاجة: 577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/258) (حسن)» (شواہد کی بنا پر حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ، فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا، إِلَّا آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا"، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ فِي نَفْسِي: أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، ثُمَّ قُلْتُهَا، فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ”ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے“ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب (میرے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» ”مجھے اس سے بہتر بدلا دے“ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1598]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہیں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اس پریشانی میں اللہ کے حکم (کی تعمیل) کا سہارا لیتا ہے، یعنی کہتا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعَوِّضْنِي مِنْهَا» ”ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنی مصیبت (پر صبر) کا ثواب چاہتا ہوں، مجھے اس کا اجر و ثواب عطا فرما اور اس کا بدل عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ اس (مسلمان) کو اس (مصیبت پر صبر) کا ثواب عنایت فرماتا ہے اور اسے اس (چھن جانے والی نعمت) سے بہتر متبادل عطا فرماتا ہے۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو مجھے وہ حدیث یاد آئی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھے سنائی تھی۔ تب میں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعَوِّضْنِي مِنْهَا» ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنی اس مصیبت (پر صبر) کا ثواب چاہتی ہوں۔ تو مجھے اس کا اجر و ثواب عطا فرما۔“ جب میں نے یہ کہنا چاہا «وَعَوِّضْنِي خَيْرًا مِنْهَا» ”مجھے اس کا بہتر متبادل عطا فرما“ تو میں نے دل میں سوچا: کیا مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر متبادل بھی مل سکتا ہے؟ پھر میں نے (دعا کے) یہ الفاظ بھی پڑھ دیے (اور حدیث کی تعمیل میں یہ دعا مانگ ہی لی) تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے دیے اور میری مصیبت کا اجر بھی عطا فرما دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 84 (3511)، (تحفة الأشراف: 6577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/27) (صحیح)» (سند میں عبد الملک بن قدامہ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: ”اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آخری مرض کے ایام میں ایک دن) وہ دروازہ کھولا یا پردہ ہٹایا جو آپ کے اور (مسجد میں نماز پڑھنے والے) لوگوں کے درمیان حائل تھا۔ دیکھا تو لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انہیں اس اچھے حال میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا (کہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں۔) آپ کو یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات) کے بعد بھی ان کو ایسے ہی (اچھے) حال میں رکھے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! جس شخص کو۔“ یا فرمایا: ”جس مومن کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ کسی دوسرے کی (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کا غم ہلکا کرنے کے لیے میری (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کو یاد کر لے کیونکہ میری امت کے کسی فرد کو میری (وفات کی) مصیبت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17774، ومصباح الزجاجة: 578) (صحیح)» (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1106)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بے حقیقت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف
ولحديثه شواھدضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف
ولحديثه شواھدضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ".
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے: «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1600]
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی مصیبت آئی (بعد میں) پھر اسے وہ مصیبت (دوبارہ) یاد آئی تو اس نے نئے سرے سے ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [سورة البقرة: 156] پڑھ لیا اگرچہ اس کو گزرے طویل عرصہ گزر گیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا (اس دن ملا تھا) جس دن مصیبت آئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3414، ومصباح الزجاجة: 579)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/201) (ضعیف جدا)» (سند میں ہشام بن زیاد متروک اور ان کی والدہ مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4551)
وضاحت: ۱؎: مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی مصیبت یاد کرکے ہم اس وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہیں تو وہی ثواب ہم کو ملے گا جو صحابہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ملا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث خاص ہے اس مصیبت سے جو خود اسی شخص پر گزر چکی ہو۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ھشام بن زياد: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
إسناده ضعيف جدًا
ھشام بن زياد: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436