🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: فَرْضِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ،: فَقَالَ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات و دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جائیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا ۱؎ (بلکہ زکاۃ میں اوسط مال لینا)، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1783]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کے پاس جا رہے ہو تو (سب سے پہلے) انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول کر لیں (اور اسلام میں داخل ہو جائیں) تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات تسلیم کر لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے دولت مند افراد سے لیا جائے گا اور واپس انہی کے ناداروں کو دے دیا جائے گا۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے عمدہ مال لینے سے اجتناب کرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچ کر رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 1 (1395)، 1 4 (1458)، 63 (1496)، المظالم 10 (2448)، المغازي 60 (4347) التوحید 1 (7371، 7372)، صحیح مسلم/الإیمان 7 (19)، سنن ابی داود/الزکاة 4 (1584)، سنن الترمذی/الزکاة 6 (625)، البر 68 (2014)، سنن النسائی/ الزکاة 1 (2437)، 46 (2523)، (تحفة الأشراف: 6511)، مسند احمد (1/233)، سنن الدارمی/الزکاة1 (1655) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: زکاۃ میں صاحب زکاۃ سے عمدہ مال لینا منع ہے، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے اللہ تعالی کی رضا کے لئے عمدہ جانور چن کر دے تو لے لیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دی جائے، تو سب سے پہلے اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی دعوت دی جائے یعنی سب سے پہلے وہ «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کی شہادت دے، جب وہ توحید و رسالت پر ایمان لا کر «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کو اپنی زبان سے دہرائے تو یہ اس بات کا اعلان ہو گا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا، ایمان نام ہے دل سے توحید و رسالت اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے اقرار اور زبان سے اس کے اعتراف اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا اس لیے توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم اور بنیادی رکن اور اسلامی فریضہ یعنی نماز پڑھنے کی دعوت دی جائے، اس کے بعد زکاۃ ادا کرنے کی جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے، چونکہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں رمضان کے روزوں اور بیت اللہ کا حج ہے، اس لیے ان کی طرف دعوت دینے کا کام دوسرے احکام ومسائل سے پہلے ہو گا، ویسے اسلام لانے کے بعد ہر طرح کے چھوٹے بڑے دینی مسائل کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ» (سورة البقرة:208) ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
۲؎: یعنی وہ فوراً مقبول ہوتی ہے رد نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں