سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ
باب: ہیجڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1902]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اپنی والدہ) ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو (گھر میں) ایک مخنث کو حضرت عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا: ”اگر اللہ نے کل طائف کی فتح نصیب فرمائی تو میں تجھے ایک عورت دکھاؤں گا جو (اتنی موٹی ہے کہ) آتی ہے تو چار بل پڑتے (نظر آتے) ہیں، جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے (نظر آتے) ہیں۔ (بہت موٹی اور خوب صورت ہے۔)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے گھروں سے نکال دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، اللباس 62 (5887)، النکاح 113 (5235)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابی داود/الأدب 61 (4929)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ الْمَرْأَةَ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ، وَالرَّجُلَ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1903]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورت پر اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مرد پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12694، ومصباح الزجاجة: 679) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1904]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر اور مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 61 (5885)، سنن ابی داود/اللباس 31 (4097)، سنن الترمذی/الأدب 34 (2784)، (تحفة الأشراف: 6188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/251، 254، 300، 339)، سنن الدارمی/الإستئذان 21 (2691) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح