سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الرَّجُلُ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ
باب: مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے۔
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ نَرَهُ شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2052]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی زوجیت میں رہنے) کو منتخب کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (طلاق وغیرہ) کچھ بھی شمار نہیں کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن ابی داود/الطلاق 12 (2203)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179)، سنن النسائی/النکاح 2 (3204)، الطلاق 27 (3472)، (تحفة الأشراف: 17634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 171، 173، 185، 202، 205)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2315) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چاہے طلاق دے لے اور چاہے شوہر کو پسند کرے، پس اگر عورت نے شوہر کو اختیار کیا تو طلاق نہ پڑے گی، یہی قول اہل حدیث کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ، أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: فَقَرَأَ عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 الْآيَاتِ، فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» (سورة الأحزاب: 28) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ...“ (یہ سن کر) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2053]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سورہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ﴾ [سورة الأحزاب: 29] ”اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”عائشہ! میں تجھے ایک بات کہہ رہا ہوں، بہتر ہے کہ تو اس (کا فیصلہ کرنے) میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لینے کو اس لیے فرمایا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”(یہ فرمانے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ آیات پڑھ کر سنائیں: ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 28] ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور دنیا کی زیب و زینت مطلوب ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ میں نے کہا: ”(اے اللہ کے رسول!) کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں نے (دنیا کی دولت کے مقابلے میں) اللہ اور اس کے رسول (کی رضا اور محبت) کا انتخاب کر لیا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 4 (4785)، 5 (4786تعلیقاً)، سنن النسائی/النکاح 2 (3203)، الطلاق 26 (3470)، (تحفة الأشراف: 16632)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطلاق 4 (1475)، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (3204)، مسند احمد (6/78، 103، 153، 163، 185، 248، 264) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب بیویوں سے اسی طرح کہا، لیکن سب نے اللہ و رسول کو اختیار کیا، اور دنیا پر خاک ڈالی، اللہ تعالی کی لعنت دنیا کی چار دن کی بہار پر ہے، پھر آخر اللہ کے پاس جانا ہے، پس آخرت کی بھلائی سب پر مقدم ہے، دنیا تو بری یا بھلی کسی بھی طرح گزر جاتی ہے، لیکن آخرت ہمیشہ رہنا ہے، اللہ آخرت سنوارے۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه