🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ: الْبَيِّعَانِ يَخْتَلِفَانِ
باب: خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلَافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" هَاتِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، فَالْقَوْلُ: مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ، قَالَ: فَإِنِّي أَرَى، أَنْ أَرُدَّ الْبَيْعَ فَرَدَّهُ".
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے، اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: بیان کریں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی، یا دونوں بیع فسخ کر دیں، انہوں نے کہا: میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2186]
حضرت قاسم بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سرکاری غلاموں میں سے ایک غلام حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ فروخت کیا۔ بعد میں ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کو (وہ غلام) بیس ہزار کا فروخت کیا تھا۔ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ سے دس ہزار کا خریدا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ انہوں نے کہا: سنا دیجئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جب بیچنے والے اور خریدنے والے میں اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہو، اور بیع شدہ چیز بعینہ موجود ہو تو بیچنے والے کا قول تسلیم کیا جائے گا (اور بیع قائم رہے گی) یا وہ دونوں بیع کو فسخ کر دیں گے۔ حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں یہ سودا فسخ کر دوں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیع فسخ کر کے غلام واپس لے لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 74 (3512)، (تحفة الأشراف: 9358)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 43 (1270)، سنن النسائی/البیوع 80 (4652)، مسند احمد (1/466) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1322 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 789)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں