سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: مَا يُرْجَى فِي كَيْلِ الطَّعَامِ مِنَ الْبَرَكَةِ
باب: اناج ناپنے میں برکت متوقع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصُبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2231]
حضرت عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اپنا کھانا (غلہ وغیرہ) ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5203، ومصباح الزجاجة: 784)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
التاريخ الكبير للبخاري (151/1) وسنده حسن
التاريخ الكبير للبخاري (151/1) وسنده حسن
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2232]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کھانا (غلہ وغیرہ) ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3490، ومصباح الزجاجة: 785)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 52 (2128)، مسند احمد (4/131، 5/414) (صحیح)» (اس سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح