🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: الرَّجُلاَنِ يَدَّعِيَانِ فِي خُصٍّ
باب: جھونپڑی کے دو دعوے دار ہوں تو فیصلہ کیسے ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ فَقَالَ:" أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ".
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2343]
نمران بن جاریہ اپنے والد (جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ایک جھونپڑی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دعویٰ کیا۔ وہ (جھونپڑی) دونوں فریقین کے استعمال میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے حق میں فیصلہ دیا جن کی طرف سرکنڈے کا نرم حصہ تھا۔ جب وہ واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو (اس فیصلے کی) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے درست (فیصلہ) کیا اور اچھا فیصلہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 3181، ومصباح الزجاجة: 823) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا (الإصابة 218/1 ت 1048) وھو متروك (تقريب: 1831)
ونمران مجهول (تقريب: 7187)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں