صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ:
باب: محرم کو کیونکر کفن دیا جائے۔
حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر جعفر نے، انہیں سعید بن جبیر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھکو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا۔ اس حالت میں کہ وہ لبیک پکارتا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1267]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص کے اونٹ نے اس کی گردن توڑ دی جبکہ ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ شخص محرم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور کفن کے لیے دو کپڑے پہناؤ، نیز اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ہی ڈھانپو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَوَقَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَأَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَيُّوبُ: يُلَبِّي، وَقَالَ عَمْرٌو: مُلَبِّيًا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو اور ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑا ہوا تھا، اچانک وہ اپنی سواری سے گر پڑا۔ ایوب نے کہا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔ اور عمرو نے یوں کہا کہ اونٹنی نے اس کو گرتے ہی مار ڈالا اور اس کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ سر ڈھکو کیونکہ قیامت میں یہ اٹھایا جائے گا۔ ایوب نے کہا کہ (یعنی) تلبیہ کہتے ہوئے (اٹھایا جائے گا) اور عمرو نے (اپنی روایت میں «ملبی» کے بجائے) «ملبيا» کا لفظ نقل کیا۔ (یعنی لبیک کہتا ہوا اٹھے گا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1268]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام عرفہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ اپنی سواری سے گر گیا۔ ایوب راوی نے کہا: «فَوَقَصَتْهُ» اور عمرو نے کہا: «فَأَقْصَعَتْهُ» یعنی سواری نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفناؤ، اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ہی ڈھانپو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اٹھے گا تو تلبیہ پکار رہا ہوگا۔“ ایوب راوی نے (مضارع) «يُلَبِّي» اور عمرو نے (اسم فاعل) «مُلَبِّيًا» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة