سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ
باب: پڑوس ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يَنْتَظِرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اس کا انتظار کیا جائے گا اگر وہ موجود نہ ہو جب دونوں کا راستہ ایک ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2494]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر (ہمسایہ) غیر حاضر ہو تو اس (کے شفعے) کا انتظار کیا جائے جب کہ ان دونوں کا راستہ ایک ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 75 (3518)، سنن الترمذی/الأحکام 32 (1369)، (تحفة الأشراف: 2434)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 83 (2669) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2495]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے قریب کی جگہ (مکان یا زمین) کا زیادہ حق دار ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل 14 (6977)، 15 (6981، 6978)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3516)، سنن النسائی/البیوع 107 (4706)، (تحفة الأشراف: 12027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390، 6/10، 390) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ، قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے، سوائے پڑوسی کے (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟!) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2496]
حضرت شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ زمین جس میں کسی کا حصہ یا شراکت نہیں، صرف ہمسائیگی ہے (اس کا کیا حکم ہے؟)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے قریب کی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 107 (4707)، (تحفة الأشراف: 4840) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اس حدیث میں بظاہر تعارض ہے، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں: ایک شعفہ یہ ہے کہ مالک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شفیع پر پیش کرے، اور دوسروں پر اسے ترجیح دے، اور اس شفعہ پر قضاء میں وہ مجبور نہ کیا جائے، اور یہی اس پڑوسی کا حق ہے جو شریک نہیں ہے، اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس شفعہ پر اسے قضاء میں مجبور کیا جائے گا، اور یہ اس پڑوسی کے حق میں ہے جو شریک بھی ہے، (حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۱۳)۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح