سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ
باب: ساجھے کا غلام ہو اور ساجھی دار اپنا حصہ آزاد کر دے تو ایسے غلام کا حکم۔
حدیث نمبر: 2527
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی (مشترک) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2527]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں سے اپنا حصہ، یا فرمایا: ایک حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنا مال خرچ کر کے (دوسرے شریکوں کو ان کا حصہ دے کر) اسے آزادی دلائے۔ اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس (اتنا) مال نہ ہو تو غلام سے اس کی قیمت کے لیے مزدوری کروائی جائے گی لیکن اس پر (اس کی طاقت سے) زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، العتق 5 (2526، 2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن ابی داود/العتق 3 (3934)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1348)، (تحفة الأشراف: 12211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 347، 426، 468، 472، 531) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2528
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ إِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کر دیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2528]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگا کر اس (آزاد کرنے والے) کے ذمے ڈالی جائے گی۔ اگر اس کے پاس اتنا مال ہوا جس سے اس (غلام) کی قیمت ادا ہو سکے تو وہ شریکوں کو ان کے حصے (نقد رقم کی صورت میں) ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ (غلام کا) جتنا (حصہ) آزاد ہو گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 4 (2522)، الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأإیمان 12 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3940)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/ البیوع 104 (4703)، موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (2/2، 15، 34، 77، 105، 112، 142، 156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه