سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: حَدِّ الزِّنَا
باب: زنا کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2549
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ائذَنْ لِي حَتَّى أَقُولَ، قَالَ:" قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْمِائَةُ الشَّاةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، قَالَ هِشَامٌ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق (مقابل) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دو“ ۱؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2549]
حضرت ابوہریرہ، حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی حاضر خدمت ہوا اور کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہمارا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق کیجئے۔“ اس کا مخالف (دوسرا آدمی) زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا: ”(جی ہاں) ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق کر دیجئے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجئے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کر لی۔ میں نے سو بکریاں اور ایک غلام اس کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم میں سے متعدد افراد سے (مسئلہ) پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور اس کی بیوی کی سزا رجم ہے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور غلام تم واپس لے لو۔ اور تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے“، اور (دوسرے صحابی سے فرمایا:) ”اُنَیس! اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ (اپنے جرم کا) اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔“ (امام ابن ماجہ کے استاد) حضرت ہشام بن عمار رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حضرت اُنَیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے پاس گئے (اور اس سے پوچھا) تو اس نے اعتراف کر لیا، چنانچہ انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314، 2315مختصراً) الصلح 5 (2695، 2696)، الشروط 9 (2724، 2725)، الإیمان 3 (6633، 6634)، الحدود 20 (6835، 6836)، 16 (6827، 6828)، 33 (6859، 6860)، الأحکام 3 (71934، 7194)، الآحاد 1 (7258، 7260)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697، 1698)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4445)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1433)، سنن النسائی/آداب القضاة 21 (4512)، (تحفة الأشراف: 3755)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد (4/115، 116)، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورت شادی شدہ تھی اس لئے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا، اس لئے اس کے لئے ایک سال جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2550
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دین کے احکام) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2550]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي» ”مجھ سے (اللہ کا حکم) حاصل کر لو، مجھ سے (اللہ کا حکم) حاصل کر لو“، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک راستہ (اور قانون) مقرر کر دیا ہے۔ کنوارے لڑکے اور کنواری لڑکی کی سزا سو کوڑے مارنا اور ایک سال کے لیے جلاوطن کرنا ہے اور شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کی سزا سو کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 3 (1690)، سنن ابی داود/الحدود 23 (4415، 4416)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1434)، (تحفة الأشراف: 5083)، وقد أخرجہ: حم (3/475، 5/313، 317، 318، 320)، سنن الدارمی/الحدود 19 (2372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محصن (شادی شدہ) زانی اور محصنہ (شادی شدہ) زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں، پھر رجم کا حکم دیا جائے گا، اور اگر کوڑے نہ مارے جائیں اورصرف رجم پر اکتفا کیا جائے تو ایسا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس عورت کے رجم کا حکم دیا، اور کوڑے مارنے کے لئے نہیں فرمایا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی، غامدیہ رضی اللہ عنہما اور یہود کو رجم کا حکم دیا اورکسی کو کوڑے نہیں لگوائے، اسی طرح شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) نے اپنی خلافت میں صرف رجم کیا کوڑے نہیں مارے، بعضوں نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا حکم منسوخ ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں سورہ نساء کی آیت کا حوالہ ہے اور سورہ نساء اخیر میں اتری۔ اور حق یہ ہے کہ امام کو اس باب میں اختیار ہے، خواہ کوڑے لگا کر رجم کرے، خواہ رجم ہی پر بس کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم