سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ عَاقِلَةٌ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ
باب: دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) پر ہے ورنہ بیت المال سے دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2633
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) کے ذمہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2633]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ ”دیت کی ذمہ دار، عاقلہ (قاتل کی برادری) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 11 (1682)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4568)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن النسائی/القسامة، 33 (4825)، (تحفة الأشراف: 11510)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6910)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4/224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2634
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ الشَّامِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام شامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی ادا کروں گا اور اس کا ترکہ بھی لوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت بھی ادا کرے گا، اور ترکہ بھی پائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2634]
مقدام (بن معدیکرب) شامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی وارث نہیں، اس کا میں وارث ہوں۔ میں اس کی دیت دوں گا اور اس کی وراثت لوں گا۔ اور جس کا کوئی وارث نہیں، ماموں اس کا وارث ہے۔ وہ اس کی دیت دے گا اور اس کی وراثت لے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 8 (2899، 2900)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح