سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: ذِكْرِ الدَّيْلَمِ وَفَضْلِ قَزْوِينَ
باب: دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، لَطَوَّلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَمْلِكُ جَبَلَ الدَّيْلَمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2779]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے، تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا حتیٰ کہ میرے گھر والوں (اہل بیت) میں سے ایک آدمی (مہدی) بادشاہ بنے گا۔ وہ دیلم کے پہاڑ اور قسطنطینیہ کے شہر پر قبضہ کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12841، ومصباح الزجاجة: 986) (ضعیف)» (سند میں قیس بن الربیع ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قيس بن الربيع: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
إسناده ضعيف
قيس بن الربيع: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
حدیث نمبر: 2780
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْآفَاقُ، وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ مَنْ رَابَطَ، فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ عَلَيْهِ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ، عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْرَاعٍ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہو گا، جس پر سبز زمرد لگا ہو گا، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہو گا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے (دروازے) ہوں گے، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2780]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے علاقے فتح ہوں گے۔ تم ایک شہر فتح کرو گے جس کا نام قزوین ہوگا۔ جو شخص اس کو فتح کرنے کے لیے چالیس دن یا چالیس رات محاذ پر موجود رہا اسے جنت میں سونے کا ایک ستون ملے گا، اس پر ایک سبز زمرد ہوگا جس پر سرخ یاقوت کا ایک خیمہ ہوگا۔ اس کے ستر ہزار دروازے ہوں گے جو سونے کے ہوں گے۔ ہر دروازے پر خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں سے اس (جنتی) کی ایک بیوی موجود ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1686، ومصباح الزجاجة: 987) (موضوع)» (سند میں یزید بن ابان، ربیع بن صبیح اور داود بن المحبر ضعیف راوی ہیں، یزید وضع حدیث کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یزید بن ابان کو اس سلسلے میں متہم کیا ہے، اور ابن ماجہ پر اس حدیث کی تخریج پر اظہار تعجب کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 381)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
داود بن المحبر:متروك (تقريب: 1811) كذاب وتوثيق ابن معين لا يزيده إلا وھنًا،وقال العراقي: و قد ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 365/2)
ويزيد بن أبان الرقاشي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
إسناده موضوع
داود بن المحبر:متروك (تقريب: 1811) كذاب وتوثيق ابن معين لا يزيده إلا وھنًا،وقال العراقي: و قد ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 365/2)
ويزيد بن أبان الرقاشي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480