سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: الْغُلُولِ
باب: مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَتَغَيَّرَتْ لَهُ وُجُوهُهُمْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ زَيْدٌ: فَالْتَمَسُوا فِي مَتَاعِهِ، فَإِذَا خَرَزَاتٌ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز (جنازہ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں (حاصل شدہ مال غنیمت میں) خیانت کی ہے“۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2848]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قبیلہ اشجع کا ایک آدمی خیبر میں (جنگ کے دوران میں) فوت ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“ لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں پر حیرت کے آثار ظاہر ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں (جہاد میں غنیمت میں) خیانت کی ہے۔“ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کے چند منکے ملے جن کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 143 (2710)، سنن النسائی/الجنائز 66 (1961)، (تحفة الأشراف: 3767)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد13 (23)، مسند احمد (4/114، 5/192) (ضعیف) (ابوعمرہ مجہول العین راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ فِي النَّارِ"، فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ، فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں ہے“، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2849]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی دیکھ بھال پر ایک آدمی متعین تھا جسے کرکرہ کہتے تھے۔ وہ فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں ہے“۔ صحابہ کرام دیکھنے لگے (کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے) تو انہیں اس کے پاس ایک چادر ملی یا عبا ملی جو اس نے (مال غنیمت میں سے) چرا لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 190 (3074)، (تحفة الأشراف: 8632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ مِنَ الْمَقَاسِمِ، ثُمَّ تَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْبَعِيرِ فَأَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً يَعْنِي وَبَرَةً، فَجَعَلَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، فَمَا دُونَ ذَلِكَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَنَارٌ وَنَارٌ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: ”لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت (چوری) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار (ندامت) و شنار (عیب) اور باعث نار (عذاب) ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2850]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غنیمت کے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے تھوڑے سے بال لیے، انہیں اپنی انگلیوں میں پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہے۔ سوئی، دھاگہ اور اس سے کم و بیش چیز بھی ادا کرو۔ (غنیمت میں) خیانت قیامت کے دن خیانت کرنے والے کے لیے عار، عیب اور آگ بن جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5121، ومصباح الزجاجة: 1009) (حسن صحیح) (سند میں عیسیٰ بن سنان لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قیامت کے دن اس کی چوری ظاہر کی جائے گی تو لوگوں میں رسوائی ہو گی، عذاب الگ ہو گا اور جس قدر ذرہ سی چیز ہو اس کی چوری جب کھلے گی تو اور زیادہ رسوائی ہے، اس لئے مومن کو چاہئے کہ غنیمت کا کل مال حاکم کے سامنے پیش کر دے ایک سوئی یا دھاگہ بھی اپنے پاس نہ رکھ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن