🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَأَبُو عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2879]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا، اس خطرے سے کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 129 (2990)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابی داود/الجہاد 88 (2610)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور اس کو ضائع کر دیں یا اس کی اہانت اور بے حرمتی کریں، ممکن ہے کہ یہ ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے خاص ہو جب مصحف کے نسخے بہت کم تھے، اور اکثر ایسا تھا کہ مصحف کی بعض آیتیں یا بعض سورتیں خاص خاص لوگوں کے پاس تھیں اور پورا مصحف کسی کے پاس نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ مصحف تلف ہو جائیں اور قرآن کا کوئی جزء مسلمانوں سے بالکل اٹھ جائے، لیکن اس زمانہ میں جب قرآن مجید کے لاکھوں نسخے چھپے موجود ہیں اور قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ موجود ہیں، یہ اندیشہ بالکل نہیں رہا، جب کہ قرآن کریم کی اہانت اور بے حرمتی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے، سبحان اللہ، اگلی امتوں میں سے کسی بھی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا تھا جو پوری تورات یا انجیل کا حافظ ہو، اب مسلمانوں میں ہر بستی میں سینکڑوں حافظ موجود ہیں، یہ فضیلت بھی اللہ تعالی نے اسی امت کو دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2880]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے علاقے میں قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے، اس خطرے سے کہ وہ دشمن کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، (تحفة الأشراف: 8286) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی بے حرمتی کر بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں