سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: ذَكَاةِ النَّادِّ مِنَ الْبَهَائِمِ
باب: قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ أَحْسَبُهُ، قَالَ: كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں“، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک سفر میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ ایک آدمی نے اس پر تیر چلا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (مویشیوں) میں کچھ بھاگ نکلنے والے ہوتے ہیں جس طرح جنگلی جانور (انسان سے دور) بھاگتے ہیں، لہٰذا ان میں سے جو تم پر غالب آ جائے (قابو میں نہ آئے) اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3137)، (تحفة الأشراف: 3516) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مر جائے تو حلال ہو گا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَكُونُ الذَّكَاةُ، إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ:" لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں (ذبح) کرنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3184]
حضرت ابو العشراء (اسامہ بن مالک) رضی اللہ عنہ اپنے والد (مالک بن قبطم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ذبح صرف حلق اور گردن ہی سے ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کی ران میں نیزہ مار دے، تب بھی کافی ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 16 (2825)، سنن الترمذی/الصید 13 (1481)، سنن النسائی/الضحایا 24 (4413)، (تحفة الأشراف: 15694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحي 12 (2015) (ضعیف)» (ابو العشراء اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2535)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2825) ترمذي (1481) نسائي (4413)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2825) ترمذي (1481) نسائي (4413)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490