🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ: الاِئْتِدَامِ بِالْخَلِّ
باب: سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3316
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3316]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ اچھا سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 30 (2051)، سنن الترمذی/الأطعمة 35 (1840)، (تحفة الأشراف: 16943)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2093) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» ”سرکہ اچھا سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 40 (3820)، سنن الترمذی/الأطعمة 35 (1842)، (تحفة الأشراف: 2579)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة الأطعمة 30 (2052)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 20 (3827)، مسند احمد (3/304، 371، 389، 390، سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ قَالَ:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ , قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا عِنْدَهَا , فَقَالَ:" هَلْ مِنْ غَدَاءٍ" , قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ وَتَمْرٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ , فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي , وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ".
ام سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، میں انہیں کے پاس تھی، آپ نے سوال کیا: ”کیا کچھ کھانے کو ہے“؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے، اے اللہ! سر کے میں برکت عطا فرما، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3318]
حضرت ام سعد (جمیلہ بنت سعد بن ربیع انصاریہ) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بھی ان کے پاس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کھانا ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمارے پاس روٹی، کھجوریں اور سرکہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ اچھا سالن ہے۔ «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ» ”اے اللہ! سرکے میں برکت عطا فرما۔“ یہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن تھا۔ جس گھر میں سرکہ ہو وہ غریب نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18321، ومصباح الزجاجة: 1143) (موضوع)» ‏‏‏‏ (عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان کی وجہ سے یہ موضوع ہے، لیکن پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گذرا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2220)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عنبسة: متروك متهم و محمد بن زاذان: متروك
وأصله في صحيح مسلم (2052) دون قوله: ’’اللھم بارك في الخل فإنه كان إدام الأنبياء قبلي ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں