سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ
باب: پانی کے برتن میں سانس لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الْإِنَاءَ , ثُمَّ لِيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3427]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص (پانی وغیرہ) پیے تو اسے برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے۔ اگر دوبارہ پینا چاہے تو برتن (منہ سے) ہٹائے، پھر چاہے تو دوبارہ (مزید) پی لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15490، ومصباح الزجاجة: 1186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ التَّنَفُّسِ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأشربة 20 (3728)، سنن الترمذی/الأشربة 15 (1888)، (تحفة الأشراف: 6056)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220ھ 309، 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح