سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: دَوَاءِ الْجِرَاحَةِ
باب: زخم کے علاج کا بیان۔
حدیث نمبر: 3464
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ:" جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ , وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ , فَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْهُ , وَعَلِيٌّ يَسْكِبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ , فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً , أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْزَمَتْهُ الْجُرْحَ , فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن زخمی ہو گئے، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا، جب وہ راکھ ہو گیا تو اسے زخم میں بھر دیا، اور اس طرح خون رک گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3464]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک میں خود (لوہے کی ٹوپی) ٹوٹ کر گھس گئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے خون کو دھو کر صاف کرنے لگیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ بہتا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی کا ٹکڑا لے کر جلایا۔ جب اس کی راکھ بن گئی تو وہ زخم پر لگا دی، تب خون رک گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 73 (243)، الجہاد 85 (2911)، الطب/27 (5722)، صحیح مسلم/الجہاد 37 (1790)، سنن الترمذی/الطب 34 (2085)، (تحفة الأشراف: 4706) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُدَاوِيهِ , وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ , قَالَ: أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ , وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ , أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ , فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3465]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ جنگِ احد کے موقع پر کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا، اور کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے زخم کا خون بند کر رہا تھا اور زخم کا علاج کر رہا تھا، اور کون ڈھال میں پانی لا رہا تھا، اور زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا کہ خون بند ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”ڈھال میں پانی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ لا رہے تھے اور زخموں کا علاج حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کر رہی تھیں۔ جب خون بند نہ ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی راکھ زخم پر رکھی تو زخم سے خون رک گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4803) (صحیح)» (سند میں عبدالمہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مشہور یہ ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا، اور بعضوں نے کہا کہ چار ملعون کافروں (یعنی عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری، اور ابی بن خلف) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا عہد کیا تھا، امام نووی تہذیب الأسماء واللغات میں کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص وہی ہے جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی کیا، اور احد کے دن آپ کا دانت توڑا میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان ہوا ہو، اور نہ آگے اس کو صحابہ میں ذکر کیا، اور بعضوں نے کہا وہ کافر مرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد المھيمن بن عباس ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
إسناده ضعيف
عبد المھيمن بن عباس ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502