سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَسْمَاءِ
باب: مستحب اور پسندیدہ ناموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , عَبْدُ اللَّهِ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3728]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الآداب 1 (2132)، سنن الترمذی/الأدب 46 (2834)، (تحفة الأشراف: 7721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/24)، سنن الدارمی/ الاستئذان 60 (2337) (صحیح)»
وضاحت: ان ناموں کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اللہ کی عبودیت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دوسرے ناموں کے ساتھ بھی ”عبد“ یا ”عبید“ لگا کر نام رکھا جا سکتا ہے۔ انبیائے کرام علیہ السلام کے ناموں پر نام رکھنا بھی درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم