🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ: التَّوَكُّلِ وَالْيَقِينِ
باب: توکل اور یقین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ , عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ , لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ , تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4164]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اگر تم لوگ اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے، وہ صبح (گھونسلوں سے) بھوکے روانہ ہوتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر آتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزھد 33 (2344)، (تحفة الأشراف: 10586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/30، 52) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ , عَنْ حَبَّةَ , وَسَوَاءٍ ابْنَيْ خَالِدٍ , قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ , فَقَالَ:" لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا , فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ , ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4165]
حضرت حبہ بن خالد رضی اللہ عنہ اور حضرت سواء بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کی مرمت کر رہے تھے۔ ہم نے اس کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں رزق سے ناامید مت ہونا۔ انسان کو اس کی ماں جنتی ہے تو وہ (گوشت کے لوتھڑے کی طرح) سرخ ہوتا ہے جس پر مضبوط کھال بھی نہیں ہوتی، پھر بھی اللہ عزوجل اسے رزق مہیا فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3292، ومصباح الزجاجة: 1477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/469) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سلام بن شرحبیل لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ زُرَيْقٍ الْعَطَّارُ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةً , فَمَنِ اتَّبَعَ قَلْبُهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا , لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ , وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ التَّشَعُّبَ".
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے دل میں دنیا کی ہر چیز کی خواہش ہوتی ہے، جس نے اپنا دل تمام خواہشات کے پیچھے لگا دیا، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ اس کو کس وادی میں ہلاک کرے، اور جس نے اللہ پر بھروسہ کر لیا تو ہر طرح کی خواہش کی فکر اس سے جاتی رہے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4166]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے دل کی ایک ایک شاخ ہر وادی میں ہوتی ہے (وہ دنیوی مفاد کے لیے ہر راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوتا ہے)۔ جس شخص کا دل ہر وادی کے پیچھے پڑ جاتا ہے (دنیا کے لیے ہر مشغولیت میں گرفتار ہو جاتا ہے) اللہ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اسے کس وادی میں تباہ کر دے۔ اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے (اللہ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے یقین کرتا ہے کہ جائز رزق اس کے لیے کافی ہوگا) اسے اللہ تعالیٰ انتشار سے بچا لیتا ہے (اور وہ اطمینان کی زندگی گزارتا ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10741، ومصباح الزجاجة: 1478) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں صالح بن زریق مجہول ہیں، اور ان کی حدیث منکر ہے، قالہ الذہبی، اور سعید بن عبدالرحمن ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن رزيق:مجهول (تقريب: 2859) وقال الذهبي: ’’ وعنه الكوسج فقط بحديث منكر ‘‘ (ميزان الإعتدال 2/ 294) والسند ضعفه البوصيري من أجل صالح ھذا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان (حسن ظن) رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4167]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کو اس حال میں موت آنی چاہیے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمہا 19 (2877)، سنن ابی داود/الجنائز 17 (3113)، (تحفة الأشراف: 2295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 325، 330، 334، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ , خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ , وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ , وَلَا تَعْجِزْ , فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ , وَإِيَّاكَ وَاللَّوْ , فَإِنَّ اللَّوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور و ناتواں مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں بھلائی ہے، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ پہنچائے، اور عاجز نہ بنو، اگر مغلوب ہو جاؤ تو کہو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے، جو اس نے چاہا کیا، اور لفظ اگر مگر سے گریز کرو، کیونکہ اگر مگر شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4168]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمزور مومن کی نسبت طاقتور مومن بہتر ہے اور اللہ کو زیادہ پیارا ہے اور سب میں خیر موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے سکتی ہے اس کی (کوشش اور) حرص کر اور عاجز نہ بن۔ اگر تجھ پر (تیری مرضی کے خلاف) کوئی چیز غالب آجائے تو کہہ: «قَدَرُ اللّٰهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» یہ اللہ کا فیصلہ ہے، اس نے جو چاہا کیا۔ «لَوْ» اگر سے بچ کیونکہ «لَوْ» اگر سے شیطان کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13952)، قد أخرجہ: صحیح مسلم/القدر 8 (2664)، مسند احمد (2/366، 370) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں