سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِكْتِفَاءِ، فِي الاِسْتِطَابَةِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ
باب: استنجاء میں تین پتھر سے کم کا استعمال منع ہے۔
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ. قال: أَجَلْ" نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (حقارت کے انداز میں) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں (سب کچھ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا (بھی)؟ تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (استنجاء کے لیے) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 41]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: ”تحقیق تمہارا نبی تو تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے حتی کہ قضائے حاجت کرنا بھی۔“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ کریں، یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفا کریں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 17 (262)، سنن ابی داود/فیہ 4 (7)، سنن الترمذی/فیہ 12 (16)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (316)، (تحفة الأشراف: 4505)، مسند احمد 5/ 437، 438، 439، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 49 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم