🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. بَابُ: كَيْفَ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
باب: پگڑی (عمامہ) پر مسح کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ:" خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، (پہلی چیز یہ ہے کہ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، (دوسری چیز) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 109]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”دو باتیں ایسی ہیں جن کی بابت میں کبھی کسی سے نہیں پوچھوں گا، جب کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہم آپ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر واپس تشریف لا کر وضو کیا اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں اطراف کا مسح فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔“ انھوں نے کہا: ”(دوسری بات) امام کا اپنی رعیت میں سے کسی آدمی کے پیچھے (اس کی اقتدا میں) نماز پڑھنا۔ تو میں نے اس کا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کیا۔ آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت سے واپسی میں) دیر ہو گئی۔ صحابہ نے جماعت کھڑی کر لی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر لیا۔ انھوں نے نماز پڑھائی۔ (اس دوران میں) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور آپ نے ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بقیہ نماز ادا کی۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11521) بھذا الإسناد، وأما بغیر ھذا الإسناد، ومطولا ومختصرا فقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوضوء 35 (182)، و 48 (203)، الصلاة 7 (363)، الجہاد 90 (2918)، المغازي 81 (4421)، اللباس 10 (5798)، 11 (5799)، صحیح مسلم/الطہارة 22، (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (149)، سنن الترمذی/فیہ 72 (97)، 75 (100)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (545)، موطا امام مالک/فیہ 8 (41)، مسند احمد 4/244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، 253، 255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740)، وتقدم عند المؤلف (بأرقام: 79، 82، 107، 108)، ویأتي عندہ (برقم: 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد مدلس وعنعن. وحديث مسلم (274/81) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں