سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ: بِأَىِّ الرِّجْلَيْنِ يَبْدَأُ بِالْغَسْلِ
باب: کس پاؤں کو پہلے دھوئے؟
حدیث نمبر: 112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الأَشْعَثُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَكَرَتْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ". قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطٍ، يَقُولُ: يَحِبُّ التَّيَامُنَ، فَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ. ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 112]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ممکن ہوتا وضو فرمانے، جوتا پہننے اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے۔“ شعبہ کہتے ہیں: ”میں نے اشعث کو واسط میں کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور میں دائیں طرف پسند کرتے تھے۔ پھر میں نے انہیں کوفہ میں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حسب استطاعت دائیں جانب پسند کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الأطعمة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، و 77 (5926)، صحیح مسلم/الطہارة 19 (268)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4140)، سنن الترمذی/الصلاة316 (608)، 10 (80)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، (تحفة الأشراف: 17657)، مسند احمد 6/94، 130، 147، 187، 188، 202، 210، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 421، 5062، 5242 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شعبہ کے اس قول کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے اس روایت کو اشعث سے درج ذیل تینوں طرح سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه