سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ وَمَضَى النَّاسُ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ يَدَهُ مِنْهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: ”مغیرہ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو! تم چلو“، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 125]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مغیرہ! تم ٹھہرو اور اے لوگو! تم چلو۔“ میں ٹھہر گیا اور میرے پاس پانی کا ایک لوٹا تھا اور لوگ چلے گئے، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، جب واپس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضائے وضو پر پانی بہانا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک رومی جبہ تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بازو آستین سے نکالنا چاہا، مگر آستین تنگ تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 11495) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 108)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح