سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ
باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت (عظمیٰ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں، اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 432]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے ایک ماہ کی مسافت تک رعب عطا فرمایا گیا، اور میرے لیے زمین کو نماز کی جگہ اور ذریعہ طہارت بنایا گیا، لہٰذا میری امت کے آدمی کو جہاں بھی نماز پالے، وہ پڑھ لے، اور مجھے شفاعت عامہ دی گئی جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جب کہ دوسرے نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 1 (335)، والصلاة 56 (438)، صحیح مسلم/المساجد 3 (521)، (تحفة الأشراف 3139)، مسند احمد 3/304، سنن الدارمی/الصلاة 111(1429)، ویأتي عند المؤلف (برقم 737) مختصر اعلی قولہ: ’’جعلت لي الأرض مسجدا‘‘ الخ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آگے جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں صرف چار کا ذکر ہے، پانچویں خصوصیت کا ذکر نہیں، اور وہ مال غنیمت کا حلال کیا جانا ہے جو سابقہ امتوں کے لیے حلال نہیں تھا، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔ ۲؎: یعنی میرا دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تبھی سے میرا رعب اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه