🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ: فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 463
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ"، قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ:" فَكَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 463]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے کے سامنے سے نہر گزرتی ہو، وہ اس سے ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو، کیا اس کا کچھ بھی میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کچھ بھی میل کچیل نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ غلطیاں مٹا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت 6 (528)، صحیح مسلم/المساجد 51 (667)، سنن الترمذی/الأمثال 5 (2868)، (تحفة الأشراف: 14998)، مسند احمد 2/379، 426، 427، 441، سنن الدارمی/الصلاة 1/1221 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ ان نمازوں کو سنت کے مطابق خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں