🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے اخیر وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ، فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَتَاهُ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلَفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصَيْهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا فَأَتَاهُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ امْتَدَّ الْفَجْرُ وَأَصْبَحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کو نماز کے اوقات بتلانے کے لیے آئے۔ جبریل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج ڈھلا، پھر جب ہر شخص کا سایہ اس کے برابر ہو گیا (سایۂ زوال کے علاوہ) تو جبریل علیہ السلام پھر آئے اور اسی طرح کیا جس طرح (ظہر کے وقت) کیا تھا، یعنی جبریل علیہ السلام آگے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج غروب ہو گیا تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، چنانچہ (اس طرح) مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہو گئی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر جب فجر کی روشنی پھوٹی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہو گئے۔ ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگ کھڑے ہو گئے اور فجر کی نماز ادا کی۔ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد سے دگنا ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب سورج غروب ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے (مگر وہ ابھی نہ آئے تھے) ہم پھر سو گئے، پھر اٹھے تو جبریل علیہ السلام آئے اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب فجر پھیل گئی تھی اور روشنی ہو گئی تھی اور ستارے گھنے نظر آ رہے تھے اور اسی طرح کیا جیسے کل کیا تھا اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: ”(آج اور کل کی) دو نمازوں کا درمیانی وقت ہر نماز کا وقت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2401)، مسند احمد 3/330 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں