سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: تَعْجِيلِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قال: سَمِعْتُ حَسَّانَ بْنَ بِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ" كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهَالِيهِمْ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْمُونَ وَيُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ سِهَامِهِمْ".
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے، پھر اپنے گھروں کو مدینہ کے آخری کونے تک لوٹتے، اور تیر مارتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 521]
بنو اسلم کے ایک شخص سے روایت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے (فرماتے ہیں کہ) ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھ کر مدینہ منورہ کے دور دراز علاقوں میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹتے (تو اتنی روشنی ہوتی تھی کہ) وہ تیر چلاتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 15547)، مسند احمد 5/371 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کی نماز آپ جلدی پڑھتے تھے، افضل یہی ہے، بعض حدیثوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن