سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: تَعْجِيلِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، قال: قَدِمَ الْحَجَّاجُ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ".
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے، اور عصر کی نماز پڑھتے تو سورج (زردی سے) صاف اور سفید ہوتا تھا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء کی نماز (مختلف اوقات میں پڑھتے)؛ جب دیکھتے کہ سب جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ انہوں نے تاخیر کی ہے تو دیر سے پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 18 (560)، 21 (565)، صحیح مسلم/المساجد 40 (646)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (397)، (تحفة الأشراف: 2644)، مسند احمد 3/369، 370، سنن الدارمی/الصلاة 2 (1222) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه