سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: التَّغْلِيسِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں غلس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِغَلَسٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُمْ، فَأَغَارَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ مَرَّتَيْنِ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، (آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 548]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے یہودیوں سے قریب تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حملہ کیا اور دو دفعہ فرمایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر!“ «خَرِبَتْ خَيْبَرُ» ”خیبر ویران ہوا“ (پھر فرمایا:) ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ”بلاشبہ ہم کسی قوم کے صحن (میدان) میں اتر پڑتے ہیں تو ان ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو جاتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 12 (381)، الخوف 6 (947)، (تحفة الأشراف: 301)، مسند احمد 3/102، 186، 242، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں اور ہم فتح یابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري