سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَنْ يَتَنَخَّمَ الرَّجُلُ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں قبلہ کی طرف تھوکنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 725]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے والی دیوار پر تھوک لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ جب انسان نماز پڑھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، الأذان 94 (753)، العمل في الصلاة 12 (1213)، الأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8366)، موطا امام مالک/القبلة 3 (4)، مسند احمد 2/32، 66، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه